21 نومبر 2012 - 20:30

سخنوروں کا حضرت امام حسین (ع) اور آپ کے انصار و اعوان سے عقیدتوں کا اظہار، میدان کربلا میں فرزند علی (ع) و نواسہ رسول (ع)، جگر گوشہ بتول (ع)، حضرت امام حسین (ع) نے تاریخِ انسانی کی ایسی قربانی پیش کی کہ آج لگ بھگ چودہ صدیاں گذر جانے کے بعد بھی ان کی یاد اور غم کی چادر چہار سو پھیلی دیکھی جاسکتی ہے۔

حضرت امام حسین (ع) نے جو تاریخی کردار ادا کیا، اس سے رُشد و ہدایت اور رہنمائی لیتے ہوئے کائنات کا ہر ذی شعور چاہے اس کا تعلق کسی بھی مکتب، مذہب، فرقہ، مملکت اور ثقافت سے ہو متاثر نظر آتا ہے۔لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ دانشور حضرات نے اس واقعہ کو اپنی تحریروں، مقالوں اور کتب کی صورت میں نہایت خوبصورت انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کیا ہے، صاحبان علم و منبر نے اسے خطابت کے جوہر دکھانے اور لوگوں کی فکر و شعور کی گتھیاں سلجھانے کا کام لیا ہے۔ آزادی و حریت کی جدوجہد کرنے والے گروہوں نے اسے اپنے لیے ایک نمونہ اور مثال قرار دیتے ہوئے استبدادی و استعماری حکمرانوں کے خلاف اپنی انقلابی جدوجہد کی کامیابی کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ 61 ہجری میدان کربلا کے گرم ریگزار پر پیش آنے والے اس عظیم واقعہ کو جہاں دیگر طبقات، گروہوں اور شخصیات نے اپنا موضوع سخن قرار دیا، وہاں ادب و آہنگ سے تعلق رکھنے والے حضرات نے بھی اسے اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔شاعروں نے اس واقعہ کے مختلف پہلوؤں پر نوحے، مرثیے، غزلیں، نظمیں اور سلام و سرور لکھے اور خوش گلو حضرات نے اسے عقیدت و محبت سے پیش کرکے داد تحسین وصول کی، یہی وجہ ہے کہ ہم تاریخ کے مختلف ادوار میں دنیا کے مختلف ممالک کے بہت سے لوگوں کو شہرت و عزت کی بلندیوں پر دیکھتے ہیں۔ بلاشبہ ان لوگوں نے "کربلا" کے حوالے سے اپنی مہارت، عقیدت و محبت اور رغبت و لگاؤ کے اظہار سے نام کمایا اور زندہ کرداروں میں شامل ہوگئے۔اس مضمون میں ہم مختصراً چند شعرا اور ان کے کلام کا تذکرہ کرتے ہیں، جنہوں نے عقیدت کے پھول نچھاور کئے، ان کے گلہائے عقیدت اور خود انہوں نے وادی عشق حسین (ع) میں بلند مقام پایا۔ یاد رہے کہ کربلا اور اس کے دکھ و غم اور مصائب پر لکھے جانے والے کلام چاہے وہ سلام ہو، غزل ہو، نوحہ ہو، مرثیہ ہو یا سرود و ترانہ ہو، اسے رثائی ادب میں شمار کیا جاتا ہے۔ اردو ادب کی یہ صنف اب صرف "کربلا" اور اس کے کرداروں و استعاروں تک مخصوص ہو کر رہ گئی ہے۔ میر انیس سے لے کر حضرت جوش ملیح آبادی تک اور علامہ ڈاکٹر محمد اقبال سے لے کر فیض احمد فیض تک سب کے سب کربلا سے متمسک و متاثر نظر آتے ہیں۔ موجودہ دور کے شاعر حضرات بھی اپنی اپنی بساط اور عقیدت کے مطابق کربلا کے مختلف پہلوؤں کو موضوع سخن بنا رہے ہیں۔ چند ایک مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔مولانا محمد علی جوہر کا یہ شعر بہت زیادہ معروف ہے:

قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہےاسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

علامہ اقبال نے تو "معنی حریت اسلامیہ و سرِحادثۂ کربلا" کے عنوان کے تحت عقل و عشق اور کردار حسین (ع) کی کرنوں کو اپنے اندر جذب کرتے ہوئے اظہار فرمایا ہے اور اس کے ذریعے ملت اسلامیہ کی شیرازہ بندی اور بیداری کی کوشش کی ہے، علامہ نے اس عظیم واقعہ کو ذبح عظیم سے تعبیر کیا ہے۔

اللہ اللہ بائے بسم اللہ پدر معنی ذبح عظیم آمد پسر

اور پھر کہا

نقشِ الا اللہ بر صحرا نوشتسطرِ عنوان نجات مانوشت

علامہ اقبال(رہ) کی اردو شاعری میں بھی یادگار اور فکر انگیز اشعار نسل انسانی کی رہنمائی اور کربلا سے ان (اقبال(رہ)) کے تعلق و تمسک کا بہترین اظہار ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:

حقیقت ابدی ہے مقام شبیریبدلتے رہتے ہیں انداز کوفی و شامی

اور اس شعر میں ایک تاریخ کو کیسے سمایا ہے اقبال(رہ) نے

غریب و سادہ و رنگین ہے داستانِ حرمنہایت اس کی حسین (ع) ابتداء ہے اسماعیل (ع)

اور کربلا کے زندہ و تابندہ کرداروں سے والہانہ عشق و محبت کرنے والے علامہ اقبال (رہ) نے عشق و صبر کا تصور یوں پیش کیا ہے:

صدقِ خلیل بھی ہے عشق، صبر حسین (ع) بھی ہے عشقمعرکۂ وجود میں، بدر و حنین بھی ہے عشق

غزل گو شعراء نے بھی اپنی غزلوں میں ظلم و ستم اور قربانی و ایثار و وفا کی اس داستان کو اپنے کلام کا حصہ بنایا۔ مثال کے طور پر ذوق کا یہ شعر دیکھئے:

لکھوں جو میں کوئی مضمونِ ظلم چرخ بریںتو کربلا کی زد میں ہو مرے غزل کی زمیںنجم آفندی کی غزل کا یہ شعر ملاحظہ فرمائیںجاں نثاروں نے ترے کر دیئے جنگل آبادخاک اُڑتی تھی شہیدانِ وفا سے پہلے

بہادر شاہ ظفر نے کربلا کی پیاس کا استعارہ اس شعر میں استعمال کیا ہے:

ترسا نہ آبِ تیغ سے ظالم تو کر شہیدکوچہ نہیں ہے تیرا کم از کربلا مجھے

معروف شاعر پروین شاکر کی غزل کا یہ شعر بھی پیاس و تشنگی کی علامت لیئے ہوئے ہے:

پہروں کی تشنگی میں یہ بھی ثابت قدم رہوںدشتِ بلا میں، روح مجھے کربلائی دے

حضرت جوش ملیح آبادی نے اپنے زمانے کے حالات اور حضرت امام حسین (ع) کی عظیم و شاہکار قربانی کو اس بند میں خوب پیش کیا ہے:

اے قوم وہی پھر ہے تباہی کا زمانہ اسلام ہے پھر تیر حوادث کا نشانہکیوں چپ ہے اسی شان سے پھر چھیڑ ترانہ تاریخ میں رہ جائے گا مردوں کا فسانہمٹتے ہوئے اسلام کا پھر نام جلی ہو لازم ہے کہ ہر فرد حسین (ع) ابن علی (ع) ہےحضرت جوش نے ہی تو یہ معروف شعر کہا ہےانسان کو بیدار تو ہو لینے دوہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین (ع)

معروف شاعر مصطفٰی زیدی کی غزل کے یہ اشعار دیکھئے:

دیکھنا اہل جنوں ساعتِ جہد آ پہنچی اب کے توہینِ لبِ دار نہ ہونے پائےدشت میں خونِ حسین ابن علی بہہ جائے بیعتِ حاکم کفار نہ ہونے پائےیہ نئی نسل اس انداز سے نکلے سر رزم کہ مؤرخ سے گنہگار نہ ہونے پائےشہرت بخاری کا ایک شعر کئی کلاموں پر بھاری دکھائی دیتا ہےجُز حسین ابنِ علی مرد نہ نکلا کوئیجمع ہوتی رہی دنیا سرِ مقتل کیا کیا

منیر نیازی کربلا کی پیاس کے عنوان سے کیا کہتے ہیں:

دل خوف میں ہے عالم فانی کو دیکھ کرآتی ہے یاد موت کی پانی کو دیکھ کران کا ایک اور شعر ملاحظہ فرمائیںمیری طرح کوئی اپنے لہو سے ہولی کھیل کے دیکھےکالے کٹھن پہاڑ دکھوں کے سر پر جھیل کے دیکھے

مولانا محمد علی جوہر کربلا کی یادوں کے چراغ جلائے رکھنے کو ہی یزیدیت سے نجات سمجھتے ہیں:

جب تک کہ دل سے محو نہ ہو کربلا کی یادہم سے نہ ہوسکے گی اطاعت یزید کیصبا اکبر آبادی فرات پر پہرہ کو یوں بیان کرتے ہیںکتنے یزید و شمر ہیں کوثر کی گھات میںپانی حسین (ع) کو نہیں ملتا فرات کا

امید فاضلی نے کیا خوب اظہار فرمایا ہے:

نکل کے جبر کے زنداں سے جب چلی تاریخنقاب اُٹھاتی گئی قاتلوں کے چہروں کااور عرفان صدیقی کی غزل کا یہ شعر بھی قابل غور ہےکیوں زباں خنجر قاتل کی ثناء کرتی ہے؟ہم وہی کرتے ہین جو خلقِ خدا کرتی ہے

اور جناب حسرت موہانی کا یہ شعر بھی تاریخ کے ایک طویل و کربناک باب کی یاد دلاتا ہے:

کیا نہیں شوقِ شہادت کو یہ کافی اعزازکہ مرا سَر ہے ترے نوکِ سناں کی رونق

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110